محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم

 ایمان کی آکسیجن

آکسیجن انسان کی بقا کے لیے بنیادی اور سب سے اہم ضرورت ہے۔ کھانا پانی ایک مدت تک نہ بھی ملے تو انسان زندہ رہ سکتا ہے لیکن آکسیجن تھوڑی دیر کے لیے بھی نہ ملے تو انسان کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ خون میں آکسیجن کی مقدار اور دبائو میں کمی کے باعث انسان کی حالت نازک اور تشویشناک ہو جاتی ہے۔دراصل ہمارا جسم کروڑوں خلیوں کا مرکب ہے اور خلیہ ہی زندگی کی بنیاد ہے اور آکسیجن خلیے کی بنیادی ضرورت۔ اگر خلیوں کو حسبِ ضرورت آکسیجن نہ ملے تو ان کی موت واقع ہو جاتی ہے اور خلیوں کی موت ہی انسان کی موت ہے۔

سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچائی ہوئی آکسیجن خون کے دوران کے ساتھ ساتھ دل سے ہوتی ہوئی جسم کے کروڑوں خلیوں تک پہنچتی ہے۔

آکسیجن دل و دماغ، آنکھوں، کانوں اور جسم کے دوسرے حصوں میں باقاعدگی کے ساتھ پہنچتی رہتی جس کے نتیجے میں دل و دماغ، آنکھیں اور کان نہایت عمدگی کے ساتھ اپنا اپنا کام انجام دیتے رہتے ہیں۔

آکسیجن کی کمی کی وجہ سے غنودگی، ذہنی اور عضلاتی تھکان، سر درد اور متلی کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ تشنج، اینٹھن اور جھٹکے شروع ہو جاتے ہیں بعض اوقات انسان کوما میں چلا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے فیصلے کرنے کی قوت اور حافظہ بُری طرح متاثر ہو جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو دل، دماغ، آنکھوں اور کانوں کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہ صرف طبعی کارکردگی کے لیے ہی نہیں ہیں کہ دل صرف خون کے دوران کے لیے پمپ کا کام کر رہا ہو، دماغ انسانی جسم کی نشوونما یا انسانی حرکات و سکنات کے لیے احکامات جاری کرنے ہی میں مصروف ہو، آنکھیں صرف دیکھ رہی ہوں یا کان صرف سُن رہے ہوں، بلکہ نفسانی اور روحانی کارکردگی میں بھی ان کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ آنکھیں نہ صرف دیکھ سکتی ہیں بلکہ حق و باطل میں تمیز بھی کر سکتی ہیں، کان نہ صرف سُن سکتے ہیں بلکہ سُن کر حق و باطل میں فرق کو محسوس کر سکتے ہیں۔ آنکھوں اور کانوں کی فراہم کردہ معلومات کی بنا پر دماغ تدبر کرتا اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کر سکتا ہے پھر اس فیصلے کو دل قبول کر بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ جن لوگوں کے پھیپھڑوں میں ایمان کی آکسیجن پہنچتی رہتی ہے یعنی ایمانی Oxygenation ہوتی رہتی ہے ان کی آنکھیں کان اور دماغ حق کو نمایاں کرتے اور حق کی تائید کرتے ہیں جس کی وجہ سے دل حق کو قبول کر لیتا ہے۔

نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی محبت تکمیلِ ایمان کی نشانی ہے۔ اگر اس میں خامی ہو گی، تو ایمان نامکمل ہے۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، مومن کا گراں بہا سرمایہ ہے اور کسی مومن کا دل اس سے خالی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہی محبت مقصود حقیقی کے قرب اور اس کی ذات و صفات کے صحیح تصور کا واحد ذریعہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ترجمہ: اے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں سے صاف صاف کہہ دیجئے کہ اگر تمھارے ماں باپ، تمہاری اولاد، تمھارے بھائی، تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ قبیلہ اور تمہارا وہ مال و دولت جس کو تم سے محنت سے کمایا ہے اور تمہاری وہ چلتی ہوئی تجارت جس کی کساد بازاری سے تم ڈرتے ہو اور تمھارے رہنے کے وہ اچھے مکانات جو تم کو پسند ہیں (پس دنیا کی محبوب و مرغوب چیزیں) اللہ، اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم، اور اللہ کے دین کی راہ کی جدوجہد سے زیادہ تمھیں محبوب ہیں تو انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم اور فیصلہ نافذ کرے اور یاد رکھو اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ (توبہ: 24)

یہ آیت اس باب میں دلیل ہے کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ضروری اور لازمی ہے اور جس شخص کو ان مذکورہ آٹھ اشیاء میں سے کوئی چیز بھی اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمسے زیادہ پیاری ہو، اسے ایسا گم کردئہ راہ بتلایا ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں فرماتے۔ آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا تقاضا ہے کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکو اپنی جان سے بھی پیارا سمجھا جائے۔ ایک اور جگہ پر ارشاد خداوندی ہے:

النبی اولٰی باالمومنین من انفسھم۔ (احزاب: 6)

مؤمن کا اپنی جان پر جتنا حق ہے، اس سے زیادہ اس کی جان پر نبیصلی اللہ علیہ وسلمکا حق ہے۔

حضور خاتم النبیینصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی محبت، امت پر فرض قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والدین، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ عزیز تر نہ ہو جائوں۔ (بخاری و مسلم)

اور ایک روایت میں ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جائوں۔

زیر نظر حدیث کا ماحصل یہ ہے کہ تکمیل ایمان کا مدارحبّ رسول پر ہے جس شخص میں نبی اعظم و آخرصلی اللہ علیہ وسلم سے اس درجہ کی محبت نہ ہو، اس کے ایمان کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔

ایک اور روایت میں آپصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین صفات جس میں پائی جائیں وہ ایمان کی شیرینی کو پالے گا۔ پہلی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ دوسری: اگر کسی سے محبت رکھے تو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے۔ تیسری: یہ کہ کفر میں جانے کو اسی طرح برا سمجھے جس طرح آگ میں گرائے جانے کو برا سمجھتا ہے۔

(بخاری و مسلم)

امام بخاریؒ نے باب حب الرسولصلی اللہ علیہ وسلممن الایمان اور باب حلاوۃ الایمان کے عنوانات کے زیر تحت لکھا ہے کہ ایمان کی لذت اور مٹھاس تب محسوس ہو گی جب حضور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ محبوب ہوں۔

اسی طرح حضرت انس بن مالکؓ سے ایک اور روایت ہے کہ ایک شخص بارگاہ رسالت مآبصلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ! یہ فرمائیے کہ قیامت کب برپا ہو گی؟ شافع محشرصلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: مَااَعْدَدْتَ لَھَا تم نے قیامت کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپصلی اللہ علیہ وسلمپر قربان! میں نے نہ تو زیادہ نمازیں پڑھی ہیں، نہ زیادہ روزے رکھے ہیں اور نہ زیادہ صدقات ہی دیے ہیں۔ لَکِنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہ وَرَسُوْلَہٗ۔ البتہ میں اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں۔ رحمۃ للعالمینصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَیْتَ تُو اس کے ساتھ ہو گا جس سے تُو محبت کرتا ہو گا۔   (صحیح بخاری)

جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ محبت رسولصلی اللہ علیہ وسلم ایمان کی آکسیجن ہے۔ یہ آکسیجن جس قدر وافر شفاف و منزہ ہو گی، اس قدر ایمان مضبوط ترین اور روح حق شناس ہو گی۔ ایمان کی آکسیجن کے بغیر ایک مسلمان چلتی پھرتی لاش کی مانند ہوتا ہے۔

محبت رسولؐ ایمان کی آکسیجن سے بھرپور:

محبت رسولؐ کی وجہ سے ایک مسلمان کی آنکھیں، کان، دل و دماغ روشن ہو جاتے ہیں۔ گمراہی و ضلالت کے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں۔

جن بدقسمت مسلمانوں کے دلوں میں محبت رسول کی آکسیجن کم ہوتی ہے، ایمانی اعتبار سے ان پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔ ان کی دماغ صلاحیت کم سے کم تر ہوتی جاتی ہے۔ وہ گستاخان رسولؐ کے ساتھ تعلقات قائم کر لیتے ہیں اوروہ صحیح فیصلے کرنے کے قابل نہیں رہ جاتے۔ پھر ان کی حالت نازک ہو جاتی ہے۔ وہ ایمانی طور پر کوما یعنی بے ہوشی میں چلے جاتے ہیں۔ انہیں کبھی بھی سدھ بدھ نہیں رہتی کہ ان سے جو کچھ بھی سرزد ہو رہا ہے، کیا سرزد ہو رہا ہے۔ وہ دماغی طور پر اتنے پست ہو جاتے ہیں اور اپنے ہوس و حواس اس قدر کھو جاتے ہیں کہ حق و باطل، نیکی و بدی میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے۔ انہیں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔

ایسے لوگوں کے لیے فوراً محبت رسولؐ کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ موت کے منہ میں جانے سے بچ جائیں۔ بے شمار مسلمان اس ایمانی آکسیجن کی کمی کی وجہ سے موت کے پنجے میں پہنچ چکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ باقی مسلمانوں کو آکسیجن فراہم کی جائے تاکہ وہ ایمانی طور پر مرنے سے بچ جائیں۔