مرزا قادیانی کی دعائیں

کسی بھی جماعت کا بانی اس کی پہچان ہوتا ہے ۔قادیانی جماعت اس معاملے میں بہت ہی بد نصیب ہے کیونکہ اس جماعت کی بنیاد ڈالنے والا مرزا قادیانی ہے ۔ مرزا قادیانی کا خاندا ن نہ صرف غدار بلکہ انگریز کا وفادار تھااور اس حد تک تھا کہ انگریز کے لیے مسلمانوں کے خون سے ہا تھ رنگنے پڑے تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا ۔ مرزا قادیانی کا وجود بھی انگریز کے پھینکے ہوئے ٹکڑوں پر پلا تھا ۔ اس لیے اس کے گوشت پوست میں انگریز کی شکر گزاری رچی بسی ہوئی تھی ۔اس کے لیے انگریزتمام حاجتوں کا پورا کرنے والا تھا ۔اس کا اپنا کوئی ذہن نہیں تھا وہ صرف وہی بات بولتا جو انگریز اس سے بلواتا ، اس کی وہی سوچ ہوتی جو انگریز اسے دیتا ۔غلام ذہنیت کی اگر بد ترین مثال کوئی پوچھے تو یقینا مرزا قادیانی کی ہی ذہنیت اس کے معیار پر پورا اترے گی۔

دعا کو عبادت کا مغز کہا جاتا ہے ۔انسان دعائوں میں وہ چیز مانگتا ہے جو اس کے دل کی مراد ہوتی ہے جس چیز کی اسے سب سے زیادہ چاہت ہوتی ہے ۔اور انسان اس کی سلامتی مانگتا ہے جس سے وہ سب سے زیادہ مخلص ہوتا ہے ۔1857ء میں مرزا قادیانی کوئی ناسمجھ طفل نہیں تھا بلکہ بھرپور جوان تھا اور 1857ء میں انگریزوں نے اپنی کامیابی کے بعد مسلمانوں سے کیا سلوک کیا؟ اس سے وہ ناواقف نہیں ہو سکتا تھا۔ خاص کر جب ہر طرف ایک ایک درخت کے ساتھ کئی کئی مسلمانوں کی لاشیں لٹکی ہوتی تھیں۔ لیکن اسلام اور ملک کے  غداروں کی اولاد مرزا قادیانی کے دل میں انگریز کی محبت اور چاہت تھی ۔اس کی دعائیں کیا تھیں آئیے اس کی کتابوں سے چند تحریریں بحوالہ ملاحظہ کریں

(1)        "چونکہ ان دونوں ( یا جوج و ماجوج) سے مراد انگریز اور روس ہیں۔ اس لئے ہر ایک سعات مند مسلمانوں کو دعا کرنی چاہیے۔کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں" ۔                              

(ازالہ اوہام (دوئم) صفحہ509مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ373از مرزا قادیانی)

(2)        " ہم نے اس گورنمنٹ (برطانیہ) کے وہ احسانات دیکھے ہیں جن کا شکر کرنا کوئی سہل بات نہیں۔ اس لئے ہم اپنی معزز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ا س گورنمنٹ  کے اسی طرح مخلص اور خیر خواہ ہیں جس طرح ہمارے بزرگ تھے۔ ہمارے ہاتھ میں بجز دعا کے اور کیا ہے؟"                                                               ( شہادت القرآن، صفحہ 84مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ380 از مرزا قادیانی)

(3)        " سو ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ (برطانیہ:ناقل) کو ہر ایک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن (مسلمانوں:ناقل) کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔ "

( شہادت القرآن، صفحہ 86مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ380از مرزا قادیانی)

(4) "اے قیصرہ مبارکہ خدا تجھے سلامت رکھے اور تیری عمر اور اقبال اور کامرانی سے ہمارے دلوں کو خوشی پہنچا دے"                                                                                              (ستارہ قیصرہ صفحہ 8روحانی خزائن جلد 15صفحہ 116)

مرزا قادیانی اپنی کتابوں میںملکہ وکٹوریہ کو قیصرہ ہند یا صرف قیصرہ کے نام سے مخاطب کر تا رہا ہے۔ 

(5)"سب سے پہلے یہ دعا کہ خدائے قادر مطلق اس ہماری عالیجاہ قیصرہ ہند کی عمر میں بہت برکت بخشے اور اقبال اور جاء جلال میں ترقی دے۔ اور عزیزوں اور فرزندوں کی عافیت سے آنکھ ٹھنڈی رکھے"                          (ستارہ قیصرہ صفحہ 3روحانی خزائن جلد15صفحہ111 )

(6) "میں دعا کرتا ہوں کہ خیر و عافیت اور خوشی کے وقت میں خدا تعالیٰ اس خط کو حضور قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچا دے اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میںالہام کر دے وہ اس سچی محبت اور سچے اخلاص کو جو موصوفہ کی نسبت میرے دل میں ہے اپنی پاک فراصت سے شناخت کر لیں اور رعیت پروری کی رو سے مجھے پر رحمت جواب سے ممنو ن فرماویں"                                                  

 (ستارہ قیصرہ صفحہ 7حانی خزائن جلد 15صفحہ 115)

(7)"اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند خدا تجھے اقبال اور خوشی کے ساتھ عمر میں برکت دے تیرا عہد حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے۔تیری ہمدردی رعایا اور نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں"                                                                                             (ستارہ قیصرہ صفحہ11 روحانی خزائن جلد 15صفحہ 119)

(8)"اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروںکہ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوںاور میں خاص طور پر آپ کی محبت اور عظمت ہے۔ہماری دن رات کی دعائیں آپ کے لئے آب رواں کی طرح جاری ہیں"                                                                                        (ستارہ قیصرہ صفحہ12,11 روحانی خزائن جلد 15ہ120,119 )

(9) "ناچار دعا پر ختم کرتا ہوں اللہ تعالیٰ جو زمین و آسمان کا مالک ہے اور نیک کاموں کی نیک جزا دیتا ہے  وہ آسمان پر سے اس محسنہ قیصرہ ہند دام لمکہاکو ہماری طرف سے نیک جزا دے۔ اور وہ فضل شامل حال کرے جو نہ صرف دنیا تک محدود ہو بلکہ سچی اور دائمی خوشحالی جو آخرت کو ہوگی وہ بھی عطا فرما دے اور اس کو خوش رکھے اور ابدی خوشی پانے کے اس کے لئے  سامان مہیا کرے۔اوراپنے فرشتوں کو حکم کرے کہ تا اس مبارک قدم ملکہ معظمہ کو اس قدر مخلوقات پر نظر رحم رکھنے والی ہے اپنے اس الہام سے منور کرے جو بجلی کی چمک کی طرح ایک دم میں نازل ہوتا اور تمام صحن سینہ کو روشن کرتااور فوق الخیال تبدیلی کردیتاہے ۔یا الٰہی ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کوہمیشہ ہر ایک پہلو سے خوش رکھ اور ایسا کہ تیری طرف سے ایک بالائی طاقت اسکو تیرے ہمیشہ کے نوروں کی طرف کھینچ کر لے جائے اور دائمی اور ابدی سرور میں داخل کرے کہ تیرے آگے کوئی بات ان ہونی  نہیں ۔آمین ۔ اور سب کہو کہ آمین

                                                            (ستارہ قیصرہ صفحہ18,17 روحانی خزائن جلد 15صفحہ126,125 )

(10)اس کی جناب میں ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو جو اپنی رعایا کی مختلف اقوام کوکنار عاطفت میں لئے ہوئے ہے جس کے ایک وجود سے کروڑ ہا انسانوں آرام پہنچ رہا ہے ۔تادیرگاہ سلامت رکھے ۔

                                                                      (تحفہ قیصرہ 2 روحانی خزائن جلد 12صفحہ254 )

(11)"بلکہ اس گورنمنٹ برطانیہ کی نسبت نہ صرف اس قدر ہے۔ بلکہ چونکہ ہم اس دولت کے سایہ عاطفت کے نیچے بامن زندگی بسر کر سکتے ہیں اس لئے اس دولت کے لئے ہماری یہ بھی فرض ہے کہ اس کی دنیا اور آخرت کے لئے دعا بھی کریں"                                                                                                   (تحفہ قیصرہ 13 روحانی خزائن جلد 12صفحہ265 )

(12)"ہدیہ شکر گزاری پیش کرتا ہوں۔اور ہدیہ دعائے سلامتی و اقبال ملکہ ممدوحہ جو دل سے اور وجود کے ذرہ ذرہ سے نکلتی ہے"                                                                                                    (تحفہ قیصرہ 14 روحانی خزائن جلد 12صفحہ266 )

(13)"اے قیصرہ و ملکہ معظمہ!ہمارے دل تیرے لئے دعا کرتے ہوئے جناب الٰہی میں جھکتے ہیں۔اور ہماری روحیںتیرے اقبال اور سلامتی کے لئے حضرت احدیت  میں سجدہ کرتی ہیں"                                                        (تحفہ قیصرہ 14 روحانی خزائن جلد 12صفحہ266 )

(14)"ہر ایک دعا جو ایک سچا شکر گزار تیرے لئے کر سکتا ہے ۔ہماری طرف سے تیرے حق میں قبول ہوں۔خدا تیری آنکھوں کو مرادوں کے ساتھ ٹھنڈی رکھے اور تیری عمر اور صحت اور سلامتی میں زیادہ سے زیادہ برکت دے اور تیرے اقبا ل کا سلسلہ ترقیات جاری رکھے اور تیرے ذریت کو تیری طرح اقبال کے دن دکھادے اور فتح اور ظفر عطا کرتا رہے۔"

                                                                        (تحفہ قیصرہ 15,14 روحانی خزائن جلد 12صفحہ266 ,267)

(15)"اے ہمارے ملکہ معظمہ !تیرے پر بیشمار برکتیں نازل ہوں ۔خدا تیرے وہ تمام فکر دور کرے جو تیرے دل میں ہیں"

                                                                                      (تحفہ قیصرہ 25 روحانی خزائن جلد 12صفحہ277 )

(16)"اب میں حضور ملکہ معظمہ میں زیادہ مصدع اوقات ہونا نہیں چاہتااور اس دعا پر یہ عریضہ ختم کرتا ہوںکہ اے قادر کریم اپنے فضل و کرم سے ہماری ملکہ معظمہ کو خوش رکھ جیسا کہ ہم اس کے سایہ عاطفت کے نیچے خوش ہیںاور اس سے نیکی کر جیسا کہ ہم اس کی نیکیوں اور احسانوںکے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیںاور ان معروضیات پر کریمانہ توجہ کرنے کے لئے اس کے دل میںآپ الہام کر کہ ہر ایک قدرت اور طاقت تجھ ہی کو ہے"                                                                                 (تحفہ قیصرہ 32 روحانی خزائن جلد 12صفحہ284 )

(17)"اور ساتھ ہی دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری اس گورنمنٹ کو ہمیشہ اقبال نصیب کریے ـــ"                      

(ضمیمہ رسالہ جہادصفحہ12روحانی خزائن جلد 17صفحہ34)

            یوں توقادیانی مذہب کے لوگ مرزا قادیانی کو مسیح موعود ،ظلی بروزی نبی اورپتہ نہیں کیا کچھ کہتے ہیں مگر سچی بات ہے کہ مرزا قادیانی انسانی غلامی کی ذلت کی انتہائوں تک گرا ہوا انسان تھا ۔اس کی دی گئی چند تحریریں یہ بات سمجھنے کے لیے کافی ہیں ۔ برصغیر پاک و ہند میں بے شمار غدار انگریز نے خریدے مگر مرزا قادیانی کی مثال نہیں ملتی ۔اور اب مرزا قادیانی کا مشن یعنی اطاعت انگریزاس کی ذریت پورا کر رہی ہے ۔ قادیانیوں کی اسلام یا وطن عزیز کی ترقی میںکوئی دلچسپی نہیں ، ان کا مقصد محض انگریز کی خوشنودی حاصل کرنا ہے ۔