انگریزکی مہربانی کا سایہ  

1857ء میں مرزا قادیانی کوئی ناسمجھ طفل نہیں تھا بلکہ بھرپور جوان تھا اور 1857ء میں انگریزوں نے اپنی کامیابی کے بعد مسلمانوں سے کیا سلوک کیا؟ اس سے وہ ناواقف نہیں ہو سکتا تھا۔ خاص کر جب ہر طرف ایک ایک درخت کے ساتھ کئی کئی مسلمانوں کی لاشیں لٹکی ہوتی تھیں۔ اب جس حکومت کو مرزا قادیانی خداکی رحمت قرار دیتا تھا، اس کے ماتحت مسلمانوں کی حالت زار بھی ملاحظہ کرتے چلیں۔

1857ء کی جنگ آزادی میں برصغیر کے عوام کی ناکامی کے بعد تہذیب و تمدن کے علمبرداروں نے تہذیب کو برہنہ کر دیا۔ شرافت کا منہ نوچ لیا۔ حیا کے نقاب کو تار تار کر دیا۔ پردہ پوش خواتین کو گھروں سے نکال کر بالوں سے پکڑ کر عریاں گھسیٹے ہوئے گورے ٹامیوں کے کیمپوں میں پہنچاد یا گیا۔ جس مسلمان کو دیکھا اس کو غدار سمجھ کر سولی پر چڑھا دیا یا توپ دم کر دیا۔ ان نظاروں کو دیکھ کر ظہیر دہلوی نے کہا تھا:                

؎  جسے دیکھا حاکم وقت نے کہا یہ بھی قابل دار ہے

1857ء کی جدوجہد آزادی کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے جو مظالم کیے، وہ اتنے شدید تھے کہ پورے ہندوستان پر خوف و ہراس طاری ہوگیا۔ انبالہ سے دہلی تک کوئی درخت ایسا نہ تھا جس پر کسی مسلمان کی لاش نہ لٹکتی ہو۔

؎  زینت دار بنانا تو کوئی بات نہیں

                  نعرہ حق کی کوئی اور سزا دیجیے

ہزاروں بے قصور مسلمانوں کو انگریزوں نے مار ڈالا۔ ان کے بدنوں کو سنگینوں سے چھیدا جاتا تھا۔ مسلمانوں کو ننگا کرکے اور زمین سے باندھ کر سر سے پائوں تک جلتے ہوئے تانبہ کے ٹکڑوں سے بری طرح داغ دیا جاتا اور انہیں سور کی کھالوں میں سی دیا جاتا۔ ہزاروں مسلمان عورتوں نے فوج کے خوف سے کنوئوں میں چھلانگ لگا دی۔ یہاں تک کہ پانی میں ڈوب گئیں۔ جب زندہ عورتوں کو کنوئوں سے نکالنا چاہا تو انہوں نے کہا ہمیں گولیوں سے مار ڈالو، نکالو نہیں، ہم شریف گھروں کی بہو بیٹیاں ہیں۔ ہماری عزت خراب نہ کرو۔

بقول حضرت مولانا محمد اقبال رنگونی: سقوط دہلی کے بعد مسلمانوں پر جو گزری ہے وہ تاریخ میں محفوظ ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ دور دیکھا ہے۔ وہ اس وقت بچہ نہ تھا کہ اسے کچھ بھی معلوم نہ ہو اور اس کے بعد گزرنے والا ہر دن ہندوستان کے باشندوں بالخصوص مسلمانوں کے لیے قیامت کا منظر بنا ہوا تھا اور قدم قدم پر ہوش ربا اور روح فرسا واقعات رونما ہورہے تھے اور یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جارہا تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا اسی غلامی اور جبر و تسلط کے دور سے تعلق ہے۔ یہ زیادتی اور ناانصافی کا زمانہ ہے مگر ایک مدعی نبوت اس دور غلامی کو رحمت و برکت کا زمانہ بتاتا ہے اور ظالموں و جابروں کے قصیدے اور نغمے گاگا کر ملت اسلامیہ کو ان کا غلام رہنے کی تعلیم و تاکید کرتا ہے۔

13 اپریل 1919ء کو بیساکھی کے روز جلیانوالہ باغ کے احتجاجی جلسہ میں جنرل ڈائر نے نہتے لوگوں پر انگریز سپاہیوں کے کئی دستوں کے ساتھ دھاوا بول دیا۔ جلیانوالہ باغ کو فوج نے چاروں طرف سے گھیر لیااور بغیر کسی انتباہ کے پرُامن عوام پر اندھا دھند گولیاں برساناشروع کر دیں۔ نوجوان گولیاں کھا کھا کر گرتے تھے اور ان کی جگہ اور نوجوان آ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جلیانوالہ باغ میں خون انسانی کی ندیاں بہنے لگیں۔ زخمی تڑپتے اور کراہتے ہوئے نظر آنے لگے، جو لوگ اس آتش بازی سے جاں بچانے کے لیے بھاگے، وہ جلیانوالہ باغ کے کنوئیں میں گر کر جاں بحق ہو گئے۔ جلیانوالہ باغ میں ہر طرف لاشیں بکھری پڑیں تھیں اور کنواں لاشوں سے اَٹ گیا تھا۔ ڈائر نے جس وحشت و بربریت کا مظاہرہ کیا، اس نے 1857ء کے میجر ہڈسن اور کرنل نیل کے ظلم و ستم کی داستان خونچکاں کی یاد تازہ کر دی۔ میجر ہڈسن وہ خونخوار بھیڑیا تھا جس نے مغل شہزادوں کے سر کاٹ کر ان کا چلو بھر خون پیا تھا اور ان شہزادوں کے سروں کو ایک طشت میں لگا کر ہندوستان کے آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کی خدمت میں پیش کیا تھا اور کرنل نیل وہ شیطان صفت بدطنیت وحشی درندہ تھا جس نے 1857ء میں مسلم خواتین کو بے لباس کر کے ان کے لواحقین کو ان سے برا بھلا کرنے پر مجبور کیا تھا اور جب ان مجاہدوں نے انکار کیا تو انھیں بڑی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ بعد ازاں ان شریف زادیوں کو وحشی ٹامیوں کے حوالے کر دیا گیا اور پھر جو ہوا سو ہوا حتیٰ کہ وہ ہمیشہ کی نیند سو گئیں۔

اگر مرزا قادیانی ان ستم رانیوں اور وحشت و بربریت کے باوجود انگریزی سلطنت کو رحمت خداوندی سمجھتا تھا تو پھر بیچارے چنگیز اور ہلاگو تو خواہ مخواہ میں بدنام ہیں۔ وہ تو انگریز کے مقابلے میں رحمت کے بہت بڑے فرشتے تھے کیونکہ انھوں نے کبھی شریف زادیوں کو ننگا کر کے ان کے لواحقین کو ان سے بدکاری کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا حالانکہ وہ کورے وحشی تھے اور مہذب انگریز کے مقابلے میں تہذیب و تمدن جیسی کوئی چیز ان کے پاس سے نہ گزری تھی۔ کٹے ہوئے سروں کے مینار، انسانی خون کی بہتی ہوئی ندیاں، کراہتے ہوئے زخمیوں کا تڑپنا، بے بس عورتوں کی چیخ و پکار اور جلے ہوئے شہروں کی اُڑتی ہوئی راکھ، چنگیز اور ہلاگو کی فوجوں کے دل پسند مناظر تھے لیکن ان کی قتل و غارت کی ساری تاریخ میں ایک واقعہ بھی نہیں جہاں انھوں نے بے بس عورتوں کو برہنہ کر کے ان کے لواحقین کو ان سے فعل بد کرنے پر مجبور کیا ہو لیکن یہ ننگ انسانیت، طغرائے امتیاز صرف اس سلطنت کو حاصل ہوا جو مرزا قادیانی کی نگاہ میں رحمت خداوندی تھی اور جس کے وہ عمر بھر قصیدے پڑھتا رہا۔ اگر یہ رحمت تھی تو پتہ نہیں لعنت کس کو کہتے ہیں؟

دنیا کی سب سے بڑی مکار، ظالم، اسلام دشمن، حضور خاتم النبیین حضرت محمدصلی اﷲ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر ہر روز نئی یورش کرنے والی اور مسلمانوں کے خون سے صدیوںہولی کھیلنے والی انگریز حکومت کو، ٹھیک اس وقت جب اس کے ہاتھ ہندوستان کے ہزاروں علما اور مجاہدین حریت کے خون سے رنگین تھے اور اس لمحے جب یہ حکومت اسلام کو صفحہ ہستی سے نابود اور ملت اسلامیہ کے وجود کو ختم کرنے کے لیے پوری مسلم دنیا پر حملہ آور تھی، مرزا قادیانی یہ یقین دلاتا ہے:

 اس سلطنت نے امن قائم کیا

(1)        سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں، یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں، دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔

(شہادت القرآن صفحہ84، 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد6 صفحہ380، 381 از مرزا قادیانی)

اسلام کو دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت سے ملی

(2)        ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے۔ تم چاہو، دل میں مجھے کچھ کہو، گالیاں نکالو، یا پہلے کی طرح کافر کا فتویٰ لکھو۔ مگر میرا اصول یہی ہے کہ ایسی سلطنت سے دِل میں بغاوت کے خیالات رکھنا یا ایسے خیال جن سے بغاوت کا احتمال ہوسکے، سخت بدذاتی اور خدا تعالیٰ کا گناہ ہے۔

(تریاق القلوب صفحہ 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15، صفحہ 156 از مرزا قادیانی)

 مسلمان آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں

(3)        اور میں نے نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزارہا روپیہ خرچ کیا گیا مگر باایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں۔

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 191,190 طبع جدید، از مرزا قادیانی)

خدا کا شکر

(4)        ہم دنیا میں فروتنی کے ساتھ زندگی بسر کرنے آئے ہیں اور بنی نوع کی ہمدردی اور اس گورنمنٹ کی خیر خواہی جس کے ہم ماتحت ہیں یعنی گورنمنٹ برطانیہ ہمارا اصول ہے۔ ہم ہرگز کسی مفسدہ اور نقص امن کو پسند نہیں کرتے اور اپنی گورنمنٹ انگریزی کی ہر ایک وقت میں مدد کرنے کے لیے طیار ہیں۔اور خدا تعالیٰ کا شکرکرتے ہیں جس نے ایسی گورنمنٹ کے زیر سایہ ہمیں رکھا ہے۔    

                                                                           (کتاب البریہ صفحہ17، مندرجہ روحانی خزائن جلد13صفحہ18 از مرزا قادیانی)

ملکہ وکٹوریہ کی حکومت کے سائے میں

(5)        اعملو ایھا الاخوان اننا قد نجونا من ایدی الظالمین فی ظل دولہ ھذہ المکیلۃ التی نضرنا فی حکومتھا کنضارہ الارض من ایام التھتان۔

ترجمہ: اے بھائیو! جانو کہ ہم نے ملکہ وکٹوریہ کی حکومت کے سائے میں ظالموں کے ہاتھوں نجات پائی ہے۔ ہم اس حکومت کے سایہ میں اس طرح سرسبز ہوتے ہیں جیسے زمین، موسم بہار میں سرسبز ہوتی ہے۔                                                                  

                                                              (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 517 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 517 از مرزا قادیانی)

یہ چند مثالیں ہیں جو قارئین کی خدمت میں پیش کی گئیں ۔ مرزا قادیانی کی ان تحریروں کو بار بار پڑھیے اور انصاف سے فیصلہ کیجئےکہ یہ مسلمانوں کے زخموںپر نمک پاشی نہیں تو اور کیا ہے ؟ ساتھ ہی یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ مرزا قادیانی جیسا بے ضمیر شخص شاید چشم فلک نے نہ دیکھا ہو گا جو انگریز سے چند مراعات لے کر ظلم کی سیاہ رات کوامن کا سایہ بتا رہا ہے ۔کاش کہ قادیانی صدق دل سے ان حقا ئق پر تو جہ کریں ۔

 دعاہے کہ اﷲ رب العزت تمام قادیانیوں کو ہدایت نصیب فرمائیں اور مرزا قادیانی جیسے عیار مکار اور انگریز کے نمک خوار کے جال سے نکلنے کی توفیق دے ۔   

؎          اور اک تو ہے کہ تیرا سایہ بھی نجس