مرزا قادیانی کی تعلیمات

کسی بھی جماعت کی پہچان اس کی تعلیمات ہیں ۔مثلاً مسلمانوں کی تعلیمات وہ ہوں گی جو نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں دیں اور ہماری یہی پہچان ہیں۔ عیسائیوں کی وہ ہوں گی جو ان کے پیشوائوں نے ان کو دیں اور ان کی وہی پہچان ہے ۔یہود کی وہ تعلیمات ہوں گی جو انہیں ان کے بڑوں سے ملیں اور ان کی وہ پہچان ہیں ۔ ہر جماعت کی تعلیمات اس کے مقاصد کی وضاحت کرتی ہیں ۔ قادیانیت کی تعلیمات وہ ہیں جو مرزا قادیانی نے انہیں دیں ۔ ان تعلیمات کوپڑھیں اور اندازہ لگا لیں کہ قادیانی جماعت کے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں ۔   

اسلام کے دو حصے:

(1)        سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں، یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں، دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔      

                                    (شہادت القرآن صفحہ84، 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد6 صفحہ380، 381 از مرزا قادیانی)

مسئلہ جہاد کا انکار :

(2)        میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے، ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔                                                        

                                       (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 196 طبع جدید، از مرزا قادیانی)

میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں:

(3)        میں اپنی جماعت کے لوگوں کو، جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہیں، جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے، نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں، جو قریباً سولہ برس سے تقریری اور تحریری طور پر ان کے ذہن نشین کرتا آیا ہوں، یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں، کیونکہ وہ ہماری محسن گورنمنٹ ہے۔ ان کی ظل حمایت میں ہمارا فرقہ احمدیہ چند سال میں لاکھوں تک پہنچ گیا ہے اور اس گورنمنٹ کا احسان ہے کہ اس کے زیر سایہ ہم ظالموں کے پنجہ سے محفوظ ہیں۔     

                                                                (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 708 طبع جدید ازمرزا قادیانی)

قادیانی اصول، ہدایتیں اور تعلیم:

(4)        اب میں نے جو کچھ میرے اصول اور ہدایتیں اور تعلیم تھی۔ سب گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں ظاہر کر دیں۔ میری ہدایتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ صلح کاری اور غریبی سے زندگی بسر کرو اور جس گورنمنٹ کے ہم ماتحت ہیں یعنی گورنمنٹ برطانیہ اس کے سچے خیر خواہ اور تابعدار ہو جائو۔ نہ نفاق اور دنیاداری سے۔ آخر دعا پر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری ملکہ معظمہ قیصرۂ ہند دام اقبالہا کا اقبال دن بدن بڑھاوے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم سچے دل سے اس کے تابعدار اور امن پسند انسان ہوں۔ آمین !           

راقم خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان 27 دسمبر 1898

(کشف الغطاء صفحہ 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 213 از مرزا قادیانی)

ہمارا وہ عقیدہ جو ہمارے دل میں ہے:

(5)        اے نادانو! گورنمنٹ انگریزی کی تعریف تمہاری طرح قلم سے منافقانہ نہیں نکلتی۔ بلکہ مَیں اپنے اعتقاد اور یقین سے سے جانتا ہوں کہ درحقیقت خدا تعالیٰ کے فضل سے اس گورنمنٹ کی پناہ ہمارے لیے بالواسطہ خدا تعالیٰ کی پناہ ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ لوگ میرے نزدیک سخت نمک حرام ہیں جو حکام انگریزی کے روبرو اُن کی خوشامدیں کرتے ہیں۔ اُن کے آگے گرتے ہیں اور پھر گھر میں آکر کہتے ہیں کہ جو شخص اس گورنمنٹ کا شکر کرتا ہے، وہ کافر ہے۔ یاد رکھو، اور خوب یاد رکھو کہ ہماری یہ کارروائی جو اس گورنمنٹ کی نسبت کی جاتی ہے، منافقانہ نہیں ہے۔ وَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ بلکہ ہمارا یہی عقیدہ ہے جو ہمارے دل میں ہے۔        (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 148 طبع جدید از مرزا قادیانی)

قادیانی مذہب اور عقیدہ:

(6)        میں نے اپنی قلم سے گورنمنٹ کی خیر خواہی میں ابتدا سے آج تک، وہ کام کیا ہے جس کی نظیر گورنمنٹ کے ہاتھ میں ایک بھی نہیں ہوگی اور میں نے ہزارہا روپیہ کے صرف سے کتابیں تالیف کرکے ان میں جابجا اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں کو اس گورنمنٹ کی سچی خیرخواہی چاہیے اور رعایا ہو کر بغاوت کا خیال بھی دل میں لانا نہایت درجہ کی بد ذاتی ہے اور میں نے ایسی کتابوں کو نہ صرف برٹش انڈیا میں پھیلایا ہے بلکہ عرب اور شام اور مصر اور روم اور افغانستان اور دیگر اسلامی بلاد میں محض للی نیت سے شائع کیا ہے نہ اس خیال سے کہ یہ گورنمنٹ میری تعظیم کرے یا مجھے انعام دے کیونکہ یہ میرا مذہب اور میرا عقیدہ ہے جس کا شائع کرنا میرے پر حق واجب تھا۔

(انجام آتھم صفحہ 68 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 68، از مرزا قادیانی)

ہر قادیانی کا عقیدہ:

(7)        آج کی تاریخ تک تیس ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ میرے ساتھ جماعت ہے، جو برٹش انڈیا کے متفرق مقامات میں آباد ہے اور ہر ایک شخص، جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے، اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعاً حرام ہے کیونکہ مسیح آ چکا۔ خاص کر میری تعلیم کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیر خواہ اس کو بننا پڑتا ہے۔                            (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ضمیمہ، صفحہ 6، 7، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 28، 29 از مرزا قادیانی)

انگریز کی خیر خواہ قوم تمام قوموں سے زیادہ خوش قسمت قوم:

(8)        یہ نیا فرقہ مگر گورنمنٹ کے لیے نہایت مبارک فرقہ برٹش انڈیا میں زور سے ترقی کر رہا ہے۔ اگر مسلمان ان تعلیموں کے پابند ہوجائیں تو مَیں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ فرشتے بن جائیں۔ اور اگر وہ اس گورنمنٹ کی سب قوموں سے بڑھ کر خیر خواہ ہوجائیں تو تمام قوموں سے زیادہ خوش قسمت ہوجائیں۔                                     (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 357، 358 طبع جدید، از مرزا قادیانی)

حق اللہ کے بعد اسلام کا اعظم ترین فرض:

(9)        ہم نے اس مبارک عید کے موقع پر گورنمنٹ کے احسانات کا ذکر کر کے اپنی جماعت کو جو اس گورنمنٹ سے دلی اخلاص رکھتی اور دیگر لوگوں کی طرح منافقانہ زندگی بسر کرنا گناہ عظیم سمجھتی ہے، توجہ دلائی کہ سب لوگ تہ دل سے اپنی مہربان گورنمنٹ کے لیے دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس جنگ میں جو ٹرینسوال میں ہو رہی ہے، فتح عظیم بخشے اور نیز یہ بھی کہا کہ حق اللہ کے بعد اسلام کا اعظم ترین فرض ہمدردی خلائق ہے اور بالخصوص ایسی مہربان گورنمنٹ کے خادموں سے ہمدردی کرنا کارِ ثواب ہے جو ہماری جانوں اور مالوں اور سب سے بڑھ کر ہمارے دین کی محافظ ہے۔ اس لیے ہماری جماعت کے لوگ جہاں جہاں ہیں، اپنی توفیق اور مقدور کے موافق سرکارِ برطانیہ کے ان زخمیوں کے واسطے جو جنگ ٹرینسوال میں مجروح ہوئے ہیں، چندہ دیں۔                                                                                                                                                         (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 364, 363 طبع جدید از مرزا قادیانی)

اپنی جماعت کونصیحت

(10)اولی الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے۔ اسی لیے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔                                   

(ضرورۃ الامام صفحہ 23 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 493 از مرزا قادیانی)

 

 

انگریز سے جہادحرامی اور بد کار آدمی کا کام :

(11)      بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے، یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے، اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکارآدمی کا کام ہے۔                                 (شہادت القرآن صفحہ84، مندرجہ روحانی خزائن جلد6صفحہ380 از مرزا قادیانی)

پاک تعلیمات

(12)      میں خدا سے پاک الہام پا کر یہ چاہتا ہوں کہ ان لوگوں  کے اخلاق اچھے ہو جائیں اور وحشیانہ عادتیں دور ہو جائیں اور نفسانی جذبات سے ان کے سینے دھوئے جائیں۔ اور ان میں آہستگی اور سنجیدگی اور حلم اور میانہ روی اور انصاف پسندی پیدا ہو جائے۔ اور یہ اپنی اس گورنمنٹ کی ایسی اطاعت کریں کہ دوسروں کے لیے نمونہ بن جائیں اور یہ ایسے ہو جائیں کہ کوئی بھی فساد کی رگ ان میں باقی نہ رہے۔ چنانچہ کسی قدر یہ مقصود مجھے حاصل بھی ہو گیا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ دس ہزار یا اس سے بھی زیادہ ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو میری ان پاک تعلیموں کے دل سے پابند ہیں۔                                                 

(تریاق القلوب صفحہ 265,264 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ,492 493 از مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی کی تمام تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ غلامی پر قناعت کرو اور دن رات انگریزی حکومت کے گن گاتے رہو۔

            پلی ہے مغربی تہذیب کے آغوش عشرت میں                 نبوت بھی رسیلی ہے پیمبر بھی رسیلا ہے

            نصاریٰ کی رضا جوئی ہے مقصد اس نبوت کا               اور ابطال جہاد انجاح مقصد کا وسیلا ہے