کوئی نہ ہو گا ملعون ایسا

1927ء میں لاہور کے ایک ہندو پبلشر راجپال نے دنیا کی عظیم ترین، پاکیزہ ترین ہستی، محبوبِ خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک نہایت دلآزار کتاب شائع کی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کی بے حد توہین کی گئی تھی۔ اس کتاب کی اشاعت پر پورے عالم اسلام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ اس گستاخی کو برداشت نہ کرتے ہوئے ایک محب رسول غازی علم الدین شہیدؒ نے 16 اپریل 1929ء کو ملعون راجپال کو قتل کردیا۔ غازی علم الدین شہیدؒ کے اس کارنامے کو پوری ملت اسلامیہ نے سراہا۔ لیکن قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے اس واقعہ کی مذمت کی اور راجپال کیقتل کو غاز ی علم الدین شہید رحمۃا للہ علیہ کی غلطی اور گناہ کا کام قرار دیا۔ مرزا بشیر الدین نے اپنی ایک تقریر میں کہا:

وہ نبی بھی کیسا نبی ہے؟

(1)        اسی طرح اس قوم کا جس کے جوشیلے آدمی قتل کرتے ہیں، خواہ انبیا کی توہین کی وجہ سے ہی وہ ایسا کریں، فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ ایسے لوگوں کو دبائے اور ان سے اظہار برأت کرے۔ انبیا کی عزت کی حفاظت قانون شکنی کے ذریعہ نہیں ہوسکتی، وہ نبی بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لیے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں، جس کے بچانے کے لیے اپنا دین تباہ کرنا پڑے۔ یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہؐ کی عزت کے لیے قتل کرنا جائز ہے، سخت نادانی ہے

وہ لوگ (غازی علم الدین شہید، ناقل) جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں، وہ بھی مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے، وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔ میرے نزدیک تو اگر یہی شخص (راج پال کا ) قاتل ہے جو گرفتار ہوا ہے تو اس کا سب سے بڑا خیر خواہ وہی ہوسکتا ہے جو اس کے پاس جاوے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی سزا تو تمہیں اب ملے گی ہی، لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے، تمہیں چاہیے، خدا سے صلح کر لو۔ اس کی خیر خواہی اسی میں ہے کہ اسے (غازی علم الدین شہید کو) بتایا جائے کہ تم سے غلطی ہوئی ہے۔    

(خطبہ جمعہ مرزا محمود خلیفہ قادیان مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان جلد16 نمبر 82 صفحہ 8،9 مورخہ 19 اپریل 1929)

غرض کہ یہ قادیانی اصول قرار پایا کہ رسول للہ صلی اﷲ علیہ وسلم  یا اہل بیتؓ کی شان میں خواہ کتنی ہی بے ادبی اور گستاخی کی جائے، ضبط و تحمل سے کام لیا جائے، اُف تک نہ کی جائے اور اگر کوئی اس سلسلہ میں غیرت ایمانی میں اپنی جان پر کھیل جائے تو اس کو اور اس کے ہمدردوں کو مجرم گردان کر ان پر لعن طعن کی جائے

لیکن

 مرزا قادیانی اور اس کے خاندان کے بارے میں یہ اصول بالکل الٹ گیا اور قرار پایا کہ

مرزا قادیان کی عزت کے لیے اگر اپنی جان بھی دینا پڑے

            جماعت احمدیہ کو اس کے مخالفین خواہ کتنا ہی غلطی خوردہ سمجھیں، گمراہ قرار دیں، لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ جماعت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو خدا کا سچا رسول اور نبی یقین کرتی ہے اور اس کا ہر ایک فرد سب سے اوّل دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا اعلان کرتا ہوا جہاں یہ اقرار کرتا ہے کہ آپ کی تعلیم اور آپ کے احکام کے مقابلے میں وہ ساری دنیا کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔ وہاں یہ بھی عہد کرتا ہے کہ آپ کی حرمت اور آپ کی تقدیس کے لیے اگر اپنی جان بھی دینا پڑے گی تو دریغ نہیں کرے گا۔

(روزنامہ الفضل قادیان جلد 17 نمبر 80 صفحہ 3 مورخہ 15 اپریل 1930ئ)

خون کا آخری قطرہ بہا دینے میں دریغ نہیں کرنا چاہیے

            سب سے پہلی اور مقدم چیز جس کے لیے ہر احمدی کو اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے میں دریغ نہیں کرنا چاہیے وہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور سلسلہ (قادیانیت) کی ہتک ہے۔                                                                                                (قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی تقریر مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان جلد 23 نمبر 43صفحہ 5 مورخہ 20 اگست 1935)

دیکھ اپنی صفوں میں کھڑے مرزا قادیانی کے مقلد

ابلیس کو ٹھہراتا ہے کیا موردِ الزام

گستاخ ہیں یہ بڑھ کر ابوجہل سے بھی زیادہ

شیطان سے لعین سمجھنا انہیں ہے جزو ایمان