یوں بھی دیا درس غلامی

مرزاقا دیانی کے ذمہ انگریز نے جو کام لگا یا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے دلوں میں انگریز کی غلامی مذہب کے رنگ میں داخل کرے۔ اور ایسا گروہ تیار کرے جوانگریزی گورنمنٹ کی غلامی کو اپنا ایمانی فرض سمجھتا ہو ۔ اس کام کے لئے ضروری تھا کہ انگریز کو اس طرح پیش کیا جائے کہ ان کا وجودخداکی جانب سے خاص انعام ہے اور انگریز سے بڑھ کر کوئی انصاف پسند نہیں ہو سکتا۔ اس کی بہت سے مثالیں مرز اقادیانی کی تحریروں میں ملتی ہیں ذیل میں چند درج ہیں ۔ پڑھیں اور فیصلہ کریں کہ قادیانیت کیا ہے اور پھر ان قادیانیوں کے لئے  اﷲ رب العزت سے سیدھے راستے کی دعا مانگیں۔  

مرزا قادیانی کی کتابوں میں سے چند تحریریں  

اسلام کو دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت سے ملی

(1)        ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے۔ تم چاہو، دل میں مجھے کچھ کہو، گالیاں نکالو، یا پہلے کی طرح کافر کا فتویٰ لکھو۔ مگر میرا اصول یہی ہے کہ ایسی سلطنت سے دِل میں بغاوت کے خیالات رکھنا یا ایسے خیال جن سے بغاوت کا احتمال ہوسکے، سخت بدذاتی اور خدا تعالیٰ کا گناہ ہے                                    

                                                                  (تریاق القلوب صفحہ 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15، صفحہ 156 از مرزا قادیانی)

حدیثوں سے انگریز سلطنت کی تعریف ثابت ہوتی ہے

(2)        یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح حکم ہوکر آئے گا اور وہ اسلام کے تمام فرقوں پر حاکم عام ہوگا۔ جس کا ترجمہ انگریزی میں گورنر جنرل ہے۔ سو یہ گورنری اُس کی زمین کی نہیں ہوگی۔ بلکہ ضرور ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی طرح غربت اور خاکساری سے آوے، سو ایسا ہی وہ ظاہر ہوا۔ تا وہ سب باتیں پوری ہوں جو صحیح بخاری میں ہیں کہ یضع الحرب یعنی وہ مذہبی جنگوں کو موقوف کر دے گا اور اس کا زمانہ امن اور صلح کاری ہوگا۔ جیسا کہ یہ بھی لکھا ہے کہ اس کے زمانہ میں شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پئیں گے اور سانپوں سے بچے کھیلیں گے۔ اور بھیڑئیے اپنے حملوں سے باز آئیں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ایک ایسی سلطنت کے زیر سایہ پیدا ہوگا جس کا کام انصاف اور عدل گستری ہوگا۔ سو اِن حدیثوں سے صریح اور کھلے طور پر انگریزی سلطنت کی تعریف ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ مسیح اسی سلطنت کے ماتحت پیدا ہوا ہے اور یہی سلطنت ہے جو اپنے انصاف سے سانپوں کو بچوں کے ساتھ ایک جگہ جمع کر رہی ہے اور ایسا امن ہے کہ کوئی کسی پر ظلم نہیں کرسکتا۔ اس لیے مجھے جو میں مسیح موعود ہوں، زمین کی بادشاہت سے کچھ تعلق نہیں۔                                                                            

(تریاق القلوب صفحہ 16، 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15، صفحہ 144، 145 از مرزا قادیانی)

اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو حق کے لیے ایک جرأت دی

(3)        میں ان واقعات کو مدنظر رکھ کر بڑے زور سے کہتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ بمراتب اس رومی گورنمنٹ سے بہتر ہے جس کے زمانہ میں مسیح کو دکھ دیا گیا۔ پیلا طوس گورنر جس کے روبرو پہلے مقدمہ پیش ہوا وہ دراصل مسیح کا مرید تھا۔ اور اس کی بیوی بھی مرید تھی۔ اس وجہ سے اس نے مسیح کے خون سے ہاتھ دھوئے مگر باوجود اس کے کہ وہ مرید تھا اور گورنر تھا اُس نے اس جرأت سے کام نہ لیا جو کپتان ڈگلس نے دکھائی۔ وہاں بھی مسیح بے گناہ تھا اور یہاں بھی میں بے گناہ تھا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں اور تجربہ سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو حق کے لیے ایک جرأت دی ہے۔ پس میں اس جگہ پر مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان پر فرض ہے کہ وہ سچے دل سے گورنمنٹ کی اطاعت کریں۔ یہ بخوبی یاد رکھو کہ جو شخص اپنے محسن انسان کا شکر گزار نہیںہوتا، وہ خدا تعالیٰ کا شکر بھی نہیں کرسکتا۔ جس قدر آسائش اور آرام اس زمانہ میں حاصل ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی۔          

            (لیکچر لدھیانہ صفحہ 23، 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 272,271 از مرزا قادیانی)

 

خدا تعالیٰ کی طرف سے

(4)        میں نے نہ کسی بناوٹ اور ریاکاری سے بلکہ محض اُس اعتقاد کی تحریک سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں ہے، بڑے زور سے بار بار اس بات کو مسلمانوں میں پھیلایا ہے کہ ان کو گورنمنٹ برطانیہ کی جو درحقیقت ان کی محسن ہے، سچی اطاعت اختیار کرنی چاہیے کہ وفاداری کے ساتھ اس کی شکر گزاری کرنی چاہیے۔ ورنہ خدا  تعالیٰ کے گنہگار ہوگے۔                                   

                                                                     (کتاب البریہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 340، از مرزا قادیانی)

اسلام کے دو حصے

(5)        سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں، یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں، دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔       

                                                           (شہادت القرآن صفحہ84، 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد6 صفحہ380، 381 از مرزا قادیانی)

جمعہ کے خطبات میں انگریز کا شکریہ

(6)        ہم رعایا کی یہ بھی تمنا ہے کہ جس طرح اسلامی ریاستوں میں ان سلاطین کا شکر کے ساتھ خطبہ میں ذکر ہوتا ہے جو مذہبی اُمور میں قرآن کے منشا کے موافق مسلمانوں کو آزادی دیتے ہیں۔ ہم بھی جمعہ کی تعطیل کے شکریہ میں اور بلاد کے مسلمانوں کی طرح یہ دائمی شکر جمعہ کے ممبروں پر اپنا وظیفہ کر لیں کہ سرکار انگریزی نے علاوہ اور مراحم اور الطاف کے ہم پر یہ بھی عنایت کی نظر کی جو ہمارے دینی عظیم الشان دن کو جو مدت سے اس ملک برٹش انڈیا میں مردہ کی طرح پڑا تھا، پھر نئے سرے سے زندہ کر دیا۔ سو بلا شبہ یہ ایسا احسان ہوگا کہ مسلمانوں کی ذریت کبھی اس کو فراموش نہیں کرے گی اور اسلامی تاریخ میں ہمیشہ عزت کے ساتھ یہ شکر ادا کیا جائے گا۔

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 553 طبع جدید از مرزا قادیانی)

اسلام کا اعظم ترین فرض انگریز کے لیے چندہ

(7)        ہم نے اس مبارک عید کے موقع پر گورنمنٹ کے احسانات کا ذکر کر کے اپنی جماعت کو جو اس گورنمنٹ سے دلی اخلاص رکھتی اور دیگر لوگوں کی طرح منافقانہ زندگی بسر کرنا گناہ عظیم سمجھتی ہے، توجہ دلائی کہ سب لوگ تہ دل سے اپنی مہربان گورنمنٹ کے لیے دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس جنگ میں جو ٹرینسوال میں ہو رہی ہے، فتح عظیم بخشے اور نیز یہ بھی کہا کہ حق اللہ کے بعد اسلام کا اعظم ترین فرض ہمدردی خلائق ہے اور بالخصوص ایسی مہربان گورنمنٹ کے خادموں سے ہمدردی کرنا کارِ ثواب ہے جو ہماری جانوں اور مالوں اور سب سے بڑھ کر ہمارے دین کی محافظ ہے۔ اس لیے ہماری جماعت کے لوگ جہاں جہاں ہیں، اپنی توفیق اور مقدور کے موافق سرکارِ برطانیہ کے ان زخمیوں کے واسطے جو جنگ ٹرینسوال میں مجروح ہوئے ہیں، چندہ دیں۔ لہٰذا بذریعہ اشتہار ہٰذا اپنی جماعت کے لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ہر ایک شہر میں فہرست مکمل کر کے اور چندہ کو وصول کر کے یکم مارچ سے پہلے مرزا خدا بخش صاحب کے پاس بمقام قادیان بھیج دیں کیونکہ یہ ڈیوٹی ان کے سپرد کی گئی ہے۔ جب آپ کا روپیہ مع فہرستوں کے آ جائے گا تو اس فہرست چندہ کو اس رپورٹ میں درج کیا جائے گا جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ ہماری جماعت اس کام کو ضروری سمجھ کر بہت جلد اس کی تعمیل کرے۔ والسّلام، راقــــــــــــــــــــــــــــــــم، مرزا غلام احمد از قادیان، 10 فروری 1900ئ۔

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 364, 363 طبع جدید از مرزا قادیانی)

طفیلی آزادی کو غنیمت سمجھو اور اس محسن گورنمنٹ کو دعائیں دو

(8)        یہ بھی تو سوچو کہ پادری صاحبوں کا مذہب ایک شاہی مذہب ہے۔ لہٰذا ہمارے ادب کا یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ ہم اپنی مذہبی آزادی کو ایک طفیلی آزادی تصور کریں، اور اس طرح پر ایک حد تک پادری صاحبوں کے احسان کے بھی قائل رہیں۔ گورنمنٹ اگر ان کو باز پرس کرے تو ہم کس قدر باز پرس کے لائق ٹھہریں گے۔ اگر سبز درخت کاٹے جائیں تو پھر خشک کی کیا بنیاد ہے۔ کیا ایسی صورت میں ہمارے ہاتھ میں قلم رہ سکے گی؟ سو ہوشیار ہو کر طفیلی آزادی کو غنیمت سمجھو اور اس محسن گورنمنٹ کو دعائیں دو جس نے تمام رعایا کو ایک ہی نظر سے دیکھا۔                                                                    (البلاغ صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 392 از مرزا قادیانی)

 

قارئین کرام ! آج وطن عزیز کی بہت سی کلیدی آسامیوں پر اسی گروہ سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں ۔ قادیانی گروہ آج بھی اغیار کا اتنا ہی وفا دار ہے جتنا وہ اسلام کا دشمن ہے ۔قادیانیوں کے خلیفہ نے پاکستان بنتے ہی کہا تھا کہ ہم اس ملک کے وجو د کو بادلنخواستہ مانتے ہیں۔اور ایک دن یہ سرحدیں ختم ہوں گی۔اگر ہم آج بھی اس حقیقت کو تسلیم کر لیں اور قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹا دیں تو ہمارے ملک کی سا  لمیت کو لاحق بہت سے خطرات ٹل جائیں۔  جو تحریک قوم کے افراد کو آغوش غلامی میں سلانے کی کوشش کرے، انہیں مفلوج اور مجہول بنانے کی راہ پر گامزن ہو، انہیں مسلسل غلامی کے فضائل یاد کروائے، وہ نبوت نہیںبلکہ قوم کے لئے برگ حشیش ہے۔